ڈیلاس میں فرینڈز آف کشمیر کانفرنس: کشمیریت اور پاکستانیت ایک ہیں

ڈیلاس، ٹیکساس: فرینڈز آف کشمیر کی جانب سے منعقدہ ایک پُرجوش اور جذباتی کانفرنس نے کشمیر کی مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر بلندکیا، اس اہم تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون تھے، جبکہ صدارت معروف امریکی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن عبدالحفیظ خان نے کی۔ فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے تقریب کی میزبانی کے فرائض سر انجام دییے۔ ڈیلاس کمیونٹی کے نمائندہ ڈاکٹر عامر قریشی نے بھی خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں رانا قاسم نون نے اپنے پُر اثر خطاب میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ پاکستان کی اولین ترجیح رہے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشمیریت اور پاکستانیت ایک ہی چیز ہیں اور پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی ہر ممکن حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے کو زور دار طریقے سے اٹھایا ہے اور عالمی برادری کو اس کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے۔
صدرِ مجلس عبدالحفیظ خان نے اپنے صدارتی خطاب میں جذباتی انداز میں کہا کہ پاکستانی کشمیریوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں و بہنوں کے لیے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کے الفاظ نے پورے ہال میں جذبے کی لہر دوڑا دی۔
چیئرپرسن غزالہ حبیب نے کہا کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے خواہاں ہیں۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے اور کشمیریوں کا صبر اب انصاف کا متقاضی ہے۔
کشمیری نوجوانوں کی نمائندہ حاءیقہ خان نے نوجوان نسل کی آواز بنتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان بہتر مستقبل کی نہیں بلکہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ انصاف نہیں کہ دنیا کے دیگر نوجوانوں کے حقوق انہیں حاصل نہیں ہوں اور کشمیری نوجوان کو ان حقوق سے محروم رکھا جائے۔ کشمیری نوجوان یہ طے کر چکے ہیں کہ وہ اپنی آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔
ڈاکٹر عامر قریشی ، اشرف بشیر اور اقبال حسن نے بھی کشمیری عوام کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں برکت بسیریا، غلام جھانگڑا، بابر رحمانی سمیت ڈیلاس کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی ۔
یہ کانفرنس نہ صرف کشمیر کی حق تلفیوں کو اجاگر کرنے کا موقع بنی بلکہ پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان ناقابلِ تسخیر رشتے کو بھی دوبارہ زندہ کر گئی۔



