اوورسیز پاکستانیوں کی پنشن میں تاخیر ختم کرنے کیلئے حکومتی اصلاحات کا آغاز

وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانی ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کر دی ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام پنشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بیرونِ ملک مقیم ہزاروں مستحقین کو درپیش مشکلات کم کرنے کی اہم پیش رفت ہے۔
اصلاحات کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کی باہمی ہم آہنگی سے نافذ کی جا رہی ہیں۔ بیان کے مطابق دونوں محکمے پنشن ڈیٹا کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے اور متعلقہ اداروں میں دستاویزی کارروائی میں اصلاحات لانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اُن انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو بیرونِ ملک پنشن کی بروقت ادائیگی میں طویل عرصے سے مشکلات پیدا کر رہی تھیں۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت معمول کی کارروائیوں کو خودکار بنایا جا رہا ہے تاکہ دستی مراحل کم ہوں، جو اکثر تاخیر کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
منصوبے کے مطابق وزارتِ خزانہ خود مختار اداروں اور اے جی پی آر سسٹم کے درمیان پنشن اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ (GPF) ریکارڈ کے انضمام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ بہتر ڈیجیٹل لنکیج سے توقع ہے کہ پنشن اور جی پی ایف کے معاملات کے پراسیسنگ وقت میں نمایاں کمی آئے گی، خاص طور پر اُن ملازمین کے لیے جو ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دیتے رہے اور جنہیں اضافی تصدیق درکار ہوتی ہے۔
وزارت نے کہا کہ وسیع تر اصلاحات کا مقصد پنشن کے طریقہ کار کو آسان بنانا، پرانے ڈیٹا سیٹس کو اپ ڈیٹ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اوورسیز ریٹائرڈ ملازمین کو اُن کی پنشن بروقت ملے، بغیر بار بار کے دوروں یا خط و کتابت کے۔ حالیہ آڈٹ رپورٹس میں پنشن سسٹم کی کمزوریاں سامنے آنے کے بعد شفافیت اور حکومتی اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے تناظر میں یہ نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔



