افریقہانٹرویوزایشیا پیسیفکٹیکنالوجیجنوبی و وسطی ایشاخلیجی ممالکشمالی امریکہعلاقائیقومی و عالمی خبریںکاروبارکالم و مضامینکمیونٹیکھیل و ثقافتہجرت و روزگاریورپ

جن افغانوں کو ہم نے پناہ دی آج وہی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کیخلاف پروپیگینڈا کررہے ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 844 افراد (سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار) شہید ہوئے، جن لوگوں کو کبھی پاکستان نے پناہ دی، وہی آج بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیردفاع نے کہا کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن کابل سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی، عسکری اور سیکیورٹی سطح پر مسلسل رابطے برقرار رکھے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ نے 4، وزیر دفاع اور آئی ایس آئی حکام نے 2، نمائندہ خصوصی نے 5، سیکرٹریز نے 5 اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے 1 مرتبہ کابل کا دورہ کیا۔
اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان 8 جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی میٹنگز، 225 بارڈر فلیگ میٹنگز، 836 احتجاجی مراسلوں اور 13 ڈیمارشز کا تبادلہ ہوا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 844 افراد (سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار) شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات رونما ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام قربانیوں اور کوششوں کے باوجود کابل سے مثبت جواب نہیں آیا، بلکہ اب افغانستان بھارت کی پراکسی کے طور پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی کی جنگ بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پر مسلط کی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جن لوگوں کو کبھی پاکستان نے پناہ دی، وہی آج بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اب پاکستان ماضی کی طرح کابل کے ساتھ تعلقات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں موجود تمام افغان شہریوں کو اب اپنے وطن واپس جانا ہوگا کیونکہ کابل میں ان کی اپنی حکومت قائم ہے۔ پاکستان کی سرزمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں، اور اب پچاس برس کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خوددار قومیں دوسروں کے وسائل پر نہیں پلتی ہوتیں، اب احتجاجی مراسلے نہیں بلکہ عملی اقدامات ہوں گے۔ پاکستان میں کسی بھی دہشت گردی کے منبع کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر کسی نے سرزمینِ پاکستان کے خلاف سازش کی تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button