قومی و عالمی خبریںہجرت و روزگار

قومی اسمبلی کمیٹی کا بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کو نشانہ بنانے والی فراڈ سرگرمیوں پر اظہارِ تشویش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل ترقی نے بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کو درپیش فراڈ سرگرمیوں، ویزا مسائل اور فلاحی چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سید رفیع اللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں کمیٹی نے بیرونِ ملک روزگار کے رجحانات اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ ارکان نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی کارکنوں کے تحفظ کے لیے فوری آگاہی مہمات، قانونی تقاضوں پر عملدرآمد اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے، جبکہ بار بار سامنے آنے والے ویزا مسائل اور فراڈ کیسز پر سوالات اٹھائے گئے۔
کویت سے متعلق بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ تکنیکی وفد کے ذریعے ویزا تنازعات حل ہونے کے بعد روزگار کے مواقع بہتر ہوئے اور پاکستان کو زیادہ لیبر کوٹہ ملا۔ تاہم کمیٹی نے مستقل تاثر کے مسائل اور قانونی عملدرآمد میں خامیوں پر تشویش ظاہر کی۔ اجلاس میں جعلی بھرتی کمپنیوں اور بڑھتی ہوئی ڈی پورٹیشنز کا بھی ذکر ہوا۔
سعودی عرب کے شہروں جدہ اور ریاض سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاکھوں پاکستانیوں کو لیبر تنازعات، اینڈ آف سروس بینیفٹس، دیت کے معاملات، وطن واپسی اور مقامی حکام سے رابطے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم جانشینی سرٹیفکیٹس، اقامہ مسائل، مہارتوں کے فقدان اور وژن 2030 کے تحت بڑھتے مقابلے جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے۔
متحدہ عرب امارات سے متعلق بریفنگ میں قیدیوں، بچوں کے کیسز، شکایات اور وطن واپسی کے معاملات پر روشنی ڈالی گئی، جبکہ وزٹ ویزا کے غلط استعمال اور وائٹ کالر جرائم پر تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ منظم آگاہی پروگرامز، کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کے اختیارات کی وضاحت، اخراجات میں شفافیت اور ویزا و دائرہ اختیار سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کی جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button