قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی اوورسیز پروموٹرز کی فیس آن لائن کرنے کی ہدایت

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی جانب سے لی جانے والی فیس کی ادائیگی کو مکمل طور پر آن لائن نظام سے مشروط کیا جائے۔ آغا رفیع اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پہلے دی گئی ہدایات پر تاحال کیوں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چیئرمین نے کہا کہ آن لائن فیس سسٹم شفافیت کو یقینی بنانے اور دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آن لائن ادائیگی کا نظام متعارف کرانے کے لیے قواعد میں ترمیم ضروری ہے کیونکہ موجودہ قواعد صرف رسید جاری کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ چیئرمین نے وزارت کی تشریح کو چیلنج کرتے ہوئے استفسار کیا کہ قواعد میں کہاں آن لائن ادائیگی کی ممانعت درج ہے؟ انہوں نے وزارت اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کے حکام کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ متعدد ہدایات کے باوجود پیش رفت نہ ہونا ناقابلِ قبول ہے۔
چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قواعد میں تبدیلی ضروری تھی تو اب تک کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے خبردار کیا کہ وزارت کی مسلسل غفلت پر استحقاق کی تحریک بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں روپے کمیٹی کے اجلاسوں پر خرچ ہوتے ہیں اور اراکین صرف ٹی اے ڈی اے کے لیے نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ بعد بھی وہی غیر تسلی بخش وضاحتیں سن کر افسوس ہوتا ہے۔
وزارت کے حکام کا کہنا تھا کہ OEC میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ خالی ہونے کی وجہ سے بڑا فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ چیئرمین نے اس جواز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی خلا اہم فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ وزارت نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں واضح اور قابلِ عمل پیش رفت سامنے لائی جائے۔
سیکریٹری اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آن لائن فیس سسٹم کے حوالے سے پیش رفت آئندہ اجلاس سے قبل کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ چیئرمین نے دوبارہ واضح کیا کہ بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کی فیس ہر صورت آن لائن وصول کی جائے تاکہ استحصال کی روک تھام اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔


