وزیراعظم کا درست سفری دستاویزات کے باوجود مسافروں کی آف لوڈنگ پر نوٹس، تحقیقات کا حکم

وزیراعظم کا درست سفری دستاویزات کے باوجود مسافروں کی آف لوڈنگ پر نوٹس، تحقیقات کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے درست سفری دستاویزات اور ویزا رکھنے کے باوجود بین الاقوامی پروازوں سے مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کی اطلاعات کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات اور بیرونِ ملک سفر سے متعلق موجودہ طریقۂ کار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز محمد عون چوہدری بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہان کے علاوہ سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز، سیکرٹری آئی ٹی اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ، نادرا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے نمائندوں کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے نیا میکنزم تجویز کرنے اور پروٹیکٹر اسٹیمپس سے متعلق نظام کو بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ بنانے کی سفارشات تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کمیٹی تین ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف ایئرپورٹس پر ایف آئی اے کی جانب سے مکمل ویزا اور سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔ یونان، اٹلی، پولینڈ اور باکو جانے والے ویزا ہولڈرز کو سفر سے روکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ سینکڑوں پاکستانیوں کو بار بار پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ مسافروں کے مطابق زبانی احکامات کا حوالہ دے کر زرعی ماہرین، ڈرائیورز اور کلینرز کی حیثیت سے بیرونِ ملک جانے والوں کو روکا جا رہا ہے، جبکہ کوئی تحریری حکم موجود نہیں۔ ایف آئی اے نے ان الزامات کو افواہیں قرار دیا ہے، تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی کرنسی میں ویزا فیس ادا کرنے والے افراد کو بھی سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ملک بھر کے پروٹیکٹر دفاتر یکساں غیر تحریری ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔


