امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے 806 لائسنس منسوخ

اوورسیز پاکستانیز کی وزارت کے حکام نے آغا رفیع اللہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں اور متعدد شکایات کی بنیاد پر اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے 806 لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کچھ پروموٹرز غیر فعال ہو چکے تھے، اس لیے ان کے لائسنس بھی واپس لے لیے گئے۔ تاہم کمیٹی کے ارکان نے فراہم کردہ معلومات کے معیار اور تکمیل پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
کمیٹی کے رکن محمد الیاس چوہدری نے پیش کی گئی فہرست کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لسٹ نامکمل ہے اور کم از کم 150 پروموٹرز کے پتے موجود ہی نہیں۔ کمیٹی چیئرمین نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وزارت کمیٹی کو اتنا غیر اہم سمجھتی ہے کہ مکمل دستاویزات فراہم نہیں کی جاتیں؟ انہوں نے وزارت کی کارکردگی کو ’’صفر‘‘ قرار دیتے ہوئے پروموٹرز کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کیں۔
چیئرمین نے مزید بتایا کہ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ پروموٹرز کے اہل خانہ کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی،یہاں پر قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں سے لاکھوں روپے لوٹے جارہے ہیں اور حکام یہ کہہ کر لاتعلقی ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ کارروائی کرنے کے مجاز نہیں۔ انہوں نے وزارت سے پوچھا کہ بیرون ملک روزگار کے لیے ایک پاکستانی سے کتنی رقم وصول کی جاتی ہے۔
چیئرمین کے مطابق ہزاروں پاکستانی بیرون ملک جانے کے لیے کئی لاکھ روپے ادا کرتے ہیں اور اکثر جعلسازوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تعین ضروری ہے کہ ایک پاکستانی کو روزگار دلوانے کے نام پر کتنا پیسہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ وزارت کے حکام نے جواب دیا کہ فیس کے تعین اور ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔
کمیٹی چیئرمین نے اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے حل کے لیے وزارت کی کارکردگی کو ناکافی قرار دیا۔ حکام نے اعتراف کیا کہ ہزاروں شکایات مختلف ایجنٹس اور پروموٹرز کے خلاف موصول ہو چکی ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے تمام کیسز کا ریکارڈ، بشمول ایف آئی اے کے پاس موجود مقدمات کی تعداد، فراہم کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ اداروں سے اب تک کی پیش رفت کی مکمل رپورٹ طلب کر لی۔



