ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ صرف پاکستان واپسی کے لیے قابلِ استعمال

حکام کے مطابق ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ (ETD) صرف پاکستان واپسی کے لیے قابلِ استعمال ہوتا ہے اور اسے کسی تیسرے ملک کے سفر یا بیرونِ ملک طویل قیام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ممالک میں امیگریشن حکام مقامی قوانین کے تحت اس دستاویز پر خصوصی خروج (ایگزٹ) اجازت بھی دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق درخواست گزار کے خلاف اگر کوئی سنگین فوجداری یا امیگریشن معاملہ زیرِ التوا ہو تو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا میں تاخیر یا انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں پاکستانی حکام متعلقہ ملک کی امیگریشن اتھارٹیز سے کلیئرنس کے بعد ہی یہ دستاویز جاری کرتے ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد شفافیت اور مؤثریت کو بہتر بنانا ہے۔
وزارت خارجہ سے منسلک قونصلر ذرائع کے اندازوں کے مطابق صرف 2025 کے دوران ہزاروں پاکستانی شہریوں کو مختلف ممالک میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹس جاری کیے گئے۔ سب سے زیادہ کیسز خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر سے رپورٹ ہوئے، جہاں پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے، دستاویزات گم ہونے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر فوری وطن واپسی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
یورپی ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو اس حوالے سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے، خاص طور پر ان کیسز میں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہری قانونی جواز کھو بیٹھتے ہیں یا اپیلیں مسترد ہونے کے بعد واپسی لازم ہو جاتی ہے۔



