پاکستان سوشل کلب عمان – ایک نئے دور کا آغاز – زاہد شکور چوہدری کی اہم تحریر

تحریر: زاہد شکور چوہدری (وائس چیئرمین – پاکستان سوشل کلب عمان)
سوشل کلب محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک زندہ روایت ہے جو بیرون ملک مقیم کمیونٹی کے افراد کو ایک دھاگے میں پروتا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ثقافتی، سماجی اور تفریحی سرگرمیاں نہ صرف باہمی تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں، بلکہ اپنے وطن سے دور ایک خاندانی فضا کی تعمیر کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ یہاں روایات زندہ رہتی ہیں، اقدار محفوظ رہتی ہیں، اور انسانی رشتے نئے معنی پاتے ہیں۔
پاکستان سوشل کلب عمان تقریباً چار سے پانچ برس تک سناٹے کا شکار رہا۔ اس دوران سفیر پاکستان جناب علی عمران چوہدری صاحب نے کلب کو دوبارہ متحرک کرنے کی بھرپور جدوجہد کی اور ایک عبوری کمیٹی کی تشکیل بھی عمل میں لائی۔ تاہم کمیونٹی کے اندرونی اختلافات اور آپسی کشمکش نے اس کوشش کو ثمر آور نہ ہونے دیا۔
جب جناب سید نوید بخاری صاحب نے بحیثیت سفیر پاکستان عمان میں اپنے فرائض سنبھالے، تو انہوں نے ان تمام رکاوٹوں کا گہرائی سے ادراک کیا۔ اپنی تقاریر میں انہوں نے بارہا اعلان کیا کہ کلب کی بحالی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور نومبر-دسمبر 2025 کو اس مقصد کے لیے حتمی ڈیڈ لائن قرار دیا۔
سفیر محترم نے کمیونٹی کے معزز بزرگوں، خصوصاً سید فیاض شاہ صاحب (کمیونٹی شیخ) اور دیگر قابل احترام شخصیات کے ساتھ مل کر یہ دشوار ترین مہم سر کی۔ راستے میں بے شمار چیلنجز حائل ہوئے، لیکن اجتماعی عزم اور بے لوث محنت نے یہ تاریخی کامیابی ممکن بنا دی۔
شاید یہ ہماری کمیونٹی کے لیے سنہری موقع ہے جو چار سے پانچ برسوں کی مسلسل کوششوں سے حاصل ہوا ہے۔ اگر ہم نے اسے ضائع کر دیا، تو مستقبل میں کوئی سفیر یا کمیونٹی لیڈر ہماری آواز پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہوگا۔
محترم سفیر اور کمیونٹی کے بزرگوں نے جناب چیئرمین ندیم عظیمی صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بحیثیت وائس چیئرمین اور دس دیگر ممبران کو جو اعتماد سے نوازا ہے، یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ ساڑھے چار لاکھ پاکستانیوں میں سے اس خدمت کے لیے منتخب ہونا بے حد اعزاز کی بات ہے، اور ہم سب اس ذمہ داری کے بوجھ کو پوری شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
اب ہم ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارا مستقبل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ہمارے سامنے دو راستے ہیں:
یا توہم کلب کی کھوئی ہوئی رونقیں بحال کر کے تاریخ میں ایک مثبت اور روشن باب رقم کریں۔
یا پھر نااہلی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیں۔
یہ وقت اتحاد، محنت اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا ہے۔ وہ اختلافات جو کبھی کلب کی بندش کا سبب بنے، اب ہمیں انہیں بھلا کر اپنی کمیونٹی کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان عمان دوستی زندہ باد
پاکستانی کمیونٹی پائندہ باد



