علاقائیقومی و عالمی خبریں

یونان میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک

یونان کے جزیرے کریٹ کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی المناک حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے کے فوراً بعد دو افراد کو زندہ حالت میں سمندر سے نکال لیا گیا جبکہ امدادی ٹیمیں اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق کشتی میں تقریباً 20 تارکینِ وطن سوار تھے۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب ربڑ کی بنی چھوٹی کشتی سمندر کی تیز لہروں کے باعث توازن کھو بیٹھی اور الٹ گئی۔ یونانی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی شمالی افریقہ سے یونانی حدود میں داخل ہوئی تھی اور اس میں سوار افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سمندر کی خراب صورتحال، ٹھنڈ اور بھوک نے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔

یونانی کوسٹ گارڈ نے تصدیق کی ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔ تمام لاشوں کو سرد خانے منتقل کیا جا رہا ہے جہاں شناخت کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔ زندہ بچ جانے والے دونوں افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور انہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

امدادی کارروائیوں میں یورپی بارڈر ایجنسی فرنٹیکس کا ایک طیارہ، ایک ہیلی کاپٹر، ایک جہاز اور تین تجارتی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تمام ٹیمیں کھلے سمندر میں مزید لاشوں یا ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کشتی جزوی طور پر پچک چکی تھی اور کھلے سمندر میں تیرتی ہوئی ملی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یورپ پہنچنے کے خواب میں تارکین وطن کس قدر خطرناک راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ کریٹ کے قریب پیش آنے والا یہ حادثہ بحیرۂ روم میں ہجرت کے بڑھتے ہوئے جان لیوا واقعات میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button